جنسی تعلیم اور ہمارے دوغلے رویے

sex-educationhttps://www.dawnnews.tv/news/1053191

گزشتہ دنوں کا ذکر ہے، میرا 14 سالہ بیٹا میرے ساتھ بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا تھا۔ جب ٹی وی پر خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق اشتہار چلا تو میں نے عادتاً چینل تبدیل کر دیا۔ اس نے بھی قصداً یوں ظاہر کیا جیسے کچھ دیکھا نہ ہو۔

کچھ دنوں بعد ایسا ہی ایک واقعہ اس وقت پیش آیا جب میری آٹھ سالہ بیٹی نے خواتین کے سینیٹری پیڈز کا اشتہار دیکھنے کے بعد معصومیت سے پوچھا، “امی یہ کس چیز کا اشتہار ہے۔” ساری لڑکیاں کیوں کلاس میں خوشی سے گا رہی ہیں۔ اس سے پہلے کہ میں کوئی جواب دیتی، میری والدہ نے بات بنائی، “فضول سوال نہیں کرتے، چپ کر کے اپنا پروگرام دیکھو۔”

جس معاشرے کے ہم پروردہ ہیں، وہاں جنس، بلوغت اور اس سے متعلق آگاہی دینا معیوب بات سمجھی جاتی ہے۔ تعلیمی اداروں میں بچوں اور نوجوان نسل کو ان کے جسم میں رونما ہونے والی فطری تبدیلیوں کے بارے میں بتدریج درست معلومات دینا تو کجا، ہم تو اپنے گھر اور خاندان میں بھی ان بنیادی موضوعات پر بات کرنے سے کتراتے ہیں۔

جب بچے بلوغت کی عمر کو پہنچتے ہیں اور ان کے جسم کے اندر مختلف تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں تو اس حوالے سے تجسس پیدا ہونا فطری عمل ہے۔ ایسے میں والدین کا دقیانوسی رویہ، روایتی اساتذہ اور نصاب، بچوں کے اس تجسس کو مزید ہوا دیتے ہیں۔

پڑھیے: ‘فحاشی کے خلاف ‘جنگ

ایسے میں زیادہ تر بچے غیر معیاری مواد، عریاں فلموں اور فحش ویڈیوز کی طرف مائل ہوتے ہیں اور مزید ذہنی خلفشار اور جذباتی ہیجان کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس حوالے سے جب نوجوانوں سے بات ہوئی تو دلچسپ انکشافات سامنے آئے۔

30 سالہ ٭صائمہ نے بتایا کہ لڑکپن سے پھوپھی امی نے یہ خوف دل میں بٹھا دیا تھا کہ اچھی لڑکیاں فضول سوال نہیں کرتیں، پس ان کی ہدایت کے مطابق میں ہر لمس، ہر انس سے شاکی رہتی۔ اس فوبیا کی وجہ اماں کی مبہم ہدایت بھی تھی کہ باحیا لڑکیاں کسی کو پاس پھٹکنے نہیں دیتیں ورنہ سزا کے طور پر بچہ پالنا پڑتا ہے۔

اس فوبیا کی شکار صائمہ کی خانگی زندگی بری طرح متاثر ہوئی اور وہ آج تک اپنے شوہر کے ساتھ ایک خوشگوار ازدواجی رشتہ استوار نہ کر سکیں، البتہ وہ اپنے بچوں کو اس حوالے سے بہتر اور حقیقت پسندانہ تعلیم دینے کی خواہاں ہیں تاکہ ان کے بچے ایک نارمل زندگی گزار سکیں۔

28 سالہ ٭سمیر کے اس حوالے سے تجربات مزید تلخ ہیں۔ والد کی بے جا سختی، اور والدہ کی پردہ پوشی نے انہیں باغی اور گھر سے دور کر دیا۔ اوباش دوستوں کی صحبت میں سمیر نے خوشی اور تسکین کی تلاش میں محلوں اور بازاروں کا رخ کیا اور جسمانی طاقت کے لیے مقوی ادویات کا۔ آج ایک مقامی ہسپتال میں ایڈز میں مبتلا وہ اپنی زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور اپنے والدین کو اپنی اور اپنے جیسے دیگر نوجوانوں کی تباہی کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔

انٹرنیٹ اور موبائل کے اس دور میں جب ہمارے نوجوان ایک انگلی کی جنبش پر دنیا سے جڑے ہیں اور ہر قسم کے گرے اور بلیو لٹریچر تک بلا امتیاز رسائی رکھتے ہیں، ہم اسی بحث میں الجھے ہوئے ہیں کہ آیا اپنے بچوں کو بلوغت اور جنس سے متعلق تعلیم دی جائے یا نہیں، یا انہیں محض وقت اور زمانے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔

گزشتہ دنوں ایک مقامی چینل پر مارننگ شو میں ایک معروف اینکر کی معیت میں دو مولوی حضرات اس بات پر نوحہ کناں تھے کہ چھٹی اور ساتویں جماعتوں کی سائنسی درسی کتب میں نظام تولید، اعضائے تولید اور جنس سے متعلق اسباق شامل ہیں جو سراسر آئین اور نظریہء پاکستان کی توہین اور فحاشی پھیلانے کے مترادف ہے۔

پڑھیے: مدد کی طلب

یہاں بحث یہ تو ہو سکتی ہے کہ یہ تعلیم بچوں اور نوجوانوں کو کس عمر میں، کس زبان میں، کہاں اور کیسے دی جائے، ان میں کن اخلاقی، لغوی اور تہذیبی پیچیدگیوں کا خیال رکھا جائے، لیکن اس بات پر کوئی دو رائے نہیں کہ جنسی صحت اور بلوغت سے متعلق بروقت اور مکمل آگاہی بچوں اور نوجوانوں کو باشعور اور محتاط بناتی ہے اور بے راہ روی سے دور رکھتی ہے۔ اس میں نظریہءِ پاکستان کی خلاف ورزی کہاں ہے؟

جب بھی یہ نکتہ اٹھایا جاتا ہے تو ہمارے ہاں قدامت پسند طبقے کو پرانے زمانے کی ‘اخلاقی اقدار’ یاد آ جاتی ہیں کہ کس طرح گھر میں ان مسائل پر بات چیت کرنا نہایت معیوب سمجھا جاتا تھا۔ مگر قدامت پسند افراد یہ بھول جاتے ہیں کہ اس زمانے میں ان چیزوں پر بات بھلے نہ کی جاتی ہو مگر بارہ تیرہ سال کے بچوں اور بچیوں کی شادی کروا کر انہیں براہِ راست عملی زندگی میں ضرور دھکیل دیا جاتا تھا۔ کیا بچوں سے ان کی بلوغت اور اس سے متعلقہ مسائل و نکات پر بات کرنا نابالغ بچوں کی شادی کروا دینے سے بھی زیادہ غلط کام ہے؟

ستم تو یہ ہے کہ شادی کے موقع پر لاکھوں روپے محض نمود و نمائش اور دکھاوے پر خرچ کیے جاتے ہیں، لیکن اس تمام تر اہتمام میں ازدواجی رشتے میں بندھنے والے جوڑے کی آگاہی اور شعوری تعلیم محض کتابی مفروضوں، فلمی قصوں اور دوستوں کے ناقص مشوروں تک محدود ہوتی ہے۔

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اکژ شادی شدہ جوڑے ابتدا ہی سے بے جا توقعات کے باعث جذباتی ناآسودگی اور خلفشار کا شکار رہتے ہیں اور ایک دیرپا رشتہ استوار نہیں کر پاتے۔

جن لوگوں کو اس تعلیم و آگہی میں حیا باختگی نظر آتی ہے، کیا وہ انسان نہیں ہیں یا اعضائے تولید و جنسی مسائل سے ان کا کبھی واسطہ نہیں پڑا؟ آخر ایسا کیوں ہے کہ ہم اپنے بچوں کو سگریٹ اور شراب کے نقصانات بیماریوں کے نام لے لے کر گنواتے ہیں تاکہ وہ ان سے باز رہیں، مگر جنسی مسائل کی بات آتے ہی سب کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔

پوچھا جانا چاہیے کہ کیا بچوں کو سگریٹ کے نقصانات بتانے سے بچے نشے کی لت میں مبتلا ہوجاتے ہیں یا نہ بتائے جانے سے؟ عقل تو یہ کہتی ہے کہ نہ بتانے سے۔ تو یہی کلیہ جنسی مسائل کی تعلیم پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

غرض یہ کہ بحیثیت معاشرہ ہم نے بہت سے دیگر معاملات کی طرح، جنس، بلوغت اور انسانی تخلیق سے متعلق اہم اور فطری موضوعات کو بھی اپنی قدامت پسندی اور لاعلمیت کی وجہ سے شجرِ ممنوعہ قرار دے دیا ہے اور اس حوالے سے مکالمے کو فحش، تعلیم کو غیر ضروری اور جبلی تجسس کو گناہ کا نام دے کر اس کے جملہ حقوق اشتہاری، بازاری اور مذہبی ٹھیکیداروں کو دے دیے۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔


*شناخت کے تحفظ کے لیے نام تبدیل کر دیے گئے ہیں۔

ارم حفیظ نجی تعلیمی ادارے میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔

Advertisements